آزادکشمیر اسمبلی میں کرتارپور طرز کی راہداری کھولنے کی متنازع قرارداد کی منظوری کا معاملہ مزید سنگین

0
download

میرپور(اورنگزیب ظفر سے ) آزادکشمیر اسمبلی میں کرتارپور طرز کی راہداری کھولنے کی متنازع قرارداد کی منظوری کا معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے اس قرارداد کو منظور کرنے والوں میں شامل اراکین اسمبلی بھی اب اسے غیر مناسب اور غیر سنجیدہ قرار دے رہے ہیں۔29مارچ کو منظور ہونے والی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ لائن آف کنٹرول کے آر پار بسنے والے کشمیریوں کے آپس میں ملنے کے لیے کرتار پور طرز کی راہداری بنائی جائے۔حکومت نے اسی قرارداد کے محرک جاوید بٹ کے ذریعے ایک متبادل قرارداد کا مسودہ بھی اسمبلی میں جمع کروا دیا ہے۔ نیوز پورٹل کی رپورٹ کے مطابق حریت کانفرنس سمیت کئی کشمیری جماعتوں اور شخصیات نے اس قرارداد پر سوالات اٹھائے ہیں۔قرارداد کی منظوری سے محض ایک ہفتہ قبل بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے لائن آف کنٹرول پر ٹیٹوال کے علاقے میں قدیمی شاردا مندر کے ریپلیکا کا افتتاح بذریعہ ویڈیو لنک کیا اور کرتار پور کوریڈور کے طرز پر شاردا مندر تک رسائی کے لیے شاردا کوریڈور کے قیام کے تمام امکانات کا جائزہ لینے کا منصوبہ پیش کیا۔شاردا نیلم میں ہندوں اور بدھ مت کے ماننے والوں کا ایک قدیم مقدس مذہبی مقام ہے جہاں شاردا مندر اور یونیورسٹی کی صدیوں پرانی باقیات آج بھی موجود ہیں۔اس مقام تک رسائی کا مطالبہ کافی عرصے سے کیا جا رہا ہے اور لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اس مطالبے کے حامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔اس قرارداد کے محرک جاوید بٹ نے نیوز پورٹل انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ قرارداد کے مسودے میں الفاظ کا چنا مناسب نہیں تھا اور ایسا ان سے نادانستگی میں ہوا۔ تاہم وہ اس کا الزام خود سے زیادہ ایوان میں موجود سینیئر اراکین اسمبلی کو دیتے ہیں۔اگر چہ یہ قرارداد گذشتہ ہفتے کے اختتام پر منظور ہوئی تھی تاہم اسے پاکستان یا آزاد کشمیرمیں میڈیا پر کوئی خاص توجہ نہیں ملی۔البتہ بھارت کے میڈیا میں اس کا چرچا شروع ہونے کے بعد مختلف سیاسی شخصیات نے اس پر ردعمل ظاہر کرنا شروع کیا۔ حیرت انگیز طور پر اب اس قرارداد پر تنقید کرنے والوں میں وہ جماعتیں اور ممبران اسمبلی بھی شامل ہیں جو قرارداد پر بحث اور منظوری کے وقت ایوان میں موجود تھیں۔ آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر بھی اس وقت ایوان میں موجود تھے۔ مگر اب انہوں نے اس قرارداد کو غیر سنجیدہ قرار دیا۔ راجہ فاروق حیدر نے بتایا کہ، جاوید بٹ والی قرارداد سنی ہی نہیں۔ یہ غلط ہوا۔ غیر سنجیدہ آدمی نے غیر سنجیدہ ماحول میں یہ کام کیا۔ اس بات کی تحقیق کی جائے کہ یہ قرارداد کس نے پیش کروائی اور اس کے پیچھے کون تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ اجلاس میں اس کا ازالہ کیا جائے گا۔اس سوال پر کہ قرارداد پیش کرنے سے قبل اس کا جائزہ لینے کا کوئی طریقہ کار موجود ہے؟قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری لطیف اکبر نے بتایا کہ حکومتی ممبران کی طرف سے آنے والی تمام قراردادیں اصولی طور پر پہلے پارلیمانی پارٹی یا کابینہ میں پیش ہوتی ہیں اور پھر وہاں سے منظوری کے بعد ہی ایوان میں پیش کی جاتی ہیں۔قواعد کار کے تحت ایوان میں پیش ہونے والی قرارداد کے مسودے کا جائزہ ایک کمیٹی لیتی ہے اور آخر میں سپیکر اسمبلی اس کا جائزہ لے کر ہی پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے مگر اس معاملے میں بظاہر تمام قواعد کو نظر انداز کیا گیا ہے۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان نے بھی کشمیر کوریڈور کے حوالے سے قرارداد کی منظوری کو افسوس ناک، تشویش ناک اور قابل مذمت عمل قرار دیتے ہوئے حکومت اور اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ قرارداد سے بلا تاخیر دستبرداری اختیار کی جائے۔اسمبلی تقسیم کشمیر کی کسی بھی سازش کا حصہ بننے سے گریز کرے۔

Leave a Reply